جائے قیام

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - ٹھہرنے کی جگہ، جائے رہائش، قیام گاہ۔ "بڑی مہربانی یہ ہو گی کہ اجازت دی جائے، میں خود اپنا انتظام کر لوں، صرف جائے قیام کافی ہے۔"      ( ١٩١٤ء، خطوط اکبر، ١٩:٢ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'جا' کے ساتھ ہمزہ زائد بطور ترکیب لگا کر کسرۂ صفت لگا کر اسے یائے مجہول سے بدل کر عربی سے ماخوذ اسم 'قیام' لگانے سے مرکب توصیفی 'جائے قیام' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩١٤ء میں "خطوط اکبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ٹھہرنے کی جگہ، جائے رہائش، قیام گاہ۔ "بڑی مہربانی یہ ہو گی کہ اجازت دی جائے، میں خود اپنا انتظام کر لوں، صرف جائے قیام کافی ہے۔"      ( ١٩١٤ء، خطوط اکبر، ١٩:٢ )

جنس: مؤنث